آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین، 2کروڑ لوگوں کی آمد متوقع، ملک بھر میں فوج ہائی الرٹ

34

تہران :ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے انتظامات کر رہا ہے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ملک کی سرحدوں پر پہرا مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرام نیا نے سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے اعلی حکام، مذہبی اور سیاسی رہنماں کی آمد کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی فورسز کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ زمینی، بحری اور فضائی افواج نے ملک کی سرحدوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے تاکہ ہر طرح سے حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ایران کی فضائی دفاعی فورس فضائی حدود کی دن رات کڑی نگرانی کر رہی ہے۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا یہ سلسلہ چھ دنوں تک جاری رہے گا جو ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ مختلف شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔
یہ رسومات ہفتے کے دن سے شروع ہوں گی، تہران کے بڑے مصلی کمپلیکس میں ان کا جسدِ خاکی رکھا جائے گا اور پیر کے دن تہران کی سڑکوں سے جنازے کو جلوس کی صورت میں گزارا جائے گا۔اس کے بعد سات جولائی کو ان کے جسدِ خاکی کو مقدس شہر قم لے جایا جائے گا اور پھر وہاں سے عراق کے شہروں نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا۔ ان تمام شہروں میں رسومات کی ادائیگی کے بعد نو جولائی کو انہیں تدفین کے لیے دوبارہ ایران میں ان کے آبائی شہر مشہد لایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں