اسلام آباد:وزیر اعظم شہبازشریف نے ہدایت کی ہے کہ سولر منصوبے کیلئے خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے،تمام ادائیگیاں تیسرے فریق کی توثیق کے بعد کی جائیں،ماحول دوست صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کےلئے شمسی توانائی کا فروغ قومی توانائی کا اہم جزو ہے۔ بدھ کو جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کے لئے 100 میگا واٹ شمسی توانائی منصوبے پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ ماحول دوست صاف، سستی اور پائیدار توانائی کے فروغ کےلئے شمسی توانائی کا فروغ قومی توانائی کا اہم جزو ہے۔ شہبازشریف نے کہاکہ 100 میگاواٹ سولر منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاور ڈویژن منصوبے کی تنصیب اور بروقت تکمیل کے حوالے سے اپنی ذمے داری پوری کرے،سولر منصوبے کیلئے خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے۔ انہوںنے کہاکہ تمام ادائیگیاں تیسرے فریق کی توثیق کے بعد کی جائیں۔اجلاس کو گلگت بلتستان شمسی توانائی منصوبے پر پیشرفت پر بریفنگ دی گئی ۔ بتایاگیاکہ منصوبے کے تحت 499 سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر بیٹری اسٹوریج سمیت 18 میگاواٹ سولر سسٹم دسمبر 2026 تک نصب کر دیا جائے گا۔ بتایاگیاکہ 82 میگاواٹ یوٹیلٹی اسکیل سولر منصوبے کا پی سی ون منظوری کےلئے ایکنک کو بھجوا دیا گیا، 82 میگاواٹ سولر منصوبے سے تقریباً 13 لاکھ افراد مستفید ہوں گے۔ بتایاگیاکہ منصوبے کی تکمیل سے گلگت بلتستان میں سروس کا معیار بہتر ہو گا اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پاور ڈویڑن سردار اویس لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
سولر منصوبے کیلئے خریداری کے عمل میں مکمل شفافیت یقینی بنائی جائے:وزیر اعظم شہبازشریف
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل
28