اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ امن معاہدے طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کا نتیجہ ہوتے ہیں، اکیس گھنٹے کے مذاکرات طویل سلسلے کی پہلی قسط تھے، فوری بریک تھرو کی توقع نہیں ہونی چاہیے۔ایکس پر پوسٹ اوراسلام آباد سے جاری بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ ایران، امریکا جوہری ڈیل میں 20 ماہ لگے تھے، اسلام آباد ایجنڈا بنانے میں مدد دے سکتا ہے مگر نتائج کی ضمانت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشیدہ صورتحال میں فریقین کو ایک محفوظ راستہ فراہم کیا، سول و عسکری قیادت نے دن رات کام کر کے عالمی اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے مذاکرات کو ممکن بنایا۔
پی پی پی سینیٹر نے کہا کہ سیز فائر خود ایک بڑی پیشرفت ہے، ایسے ماحول میں خلاف ورزیاں غیر معمولی نہیں ہوتیں، امن معاہدے طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ معلوم نہیں پہلی ملاقات میں بریک تھرو کی توقع کیوں کی جا رہی تھی، دنیا کو چاہیے اس اسٹریٹجک وقفے کو وقت دے تاکہ تہران اور واشنگٹن غور و فکر کر سکیں۔
امن معاہدہ طویل اور مرحلہ وار مذاکرات کا نتیجہ ہوتا ہے، شیری رحمان
4





