ایف بی آر کے غلط جائزوں کی وجہ سے اربوں روپے کے کیسز زیر التواءہیں ‘ پاکستان ٹیکس بار

38

لاہور:پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں اگر بروقت ٹیکس ریلیف اور کاروبار دوست پالیسیاں متعارف نہ کروائی گئیں تو معیشت پر دبا ﺅمزید بڑھ سکتا ہے،ایف بی آر کے غلط جائزوں کی وجہ سے اربوں روپے کے کیسز زیر التواءہیں جس کی وجہ سے خوف و ہراس پھیلتا ہے ۔ پاکستان ٹیکس بار کے صدر صدر شیخ احسان الحق ،جنرل سیکرٹری طاہر محمود بٹ،سینئر نائب صدر شیخ یاسین،نائب صدور رانا منظور حسین ،عامر حنیف ،شہباز قادر اوردیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطی کی صورتحال نے پاکستان کی معیشت پر دبا ﺅبڑھا دیا ہے،اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کو آئندہ مہینوں میں 6 سے 8 ارب ڈالر تک اضافی معاشی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ہر بیرل پر5 ڈالر اضافے سے پاکستان کے درآمدی بل میں تقریباً ایک ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ شپنگ اور انشورنس اخراجات بڑھنے سے درآمدات مزید مہنگی ہو رہی ہیں جس سے مہنگائی اور مالیاتی دبا ﺅمیں اضافہ متوقع ہے۔اس صورتحال میں حکومت کوفوری اقدامات اٹھانا ہوںگے ،حکومت کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکس ریٹس میں کمی کرنی چاہیے تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں