اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دے دی ۔ منگل کو وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس کا انعقاد ہوا جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک ، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنااللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں پی اے آر سی کو زرعی تحقیق کا جدید دور کی تقاضوں سے ہم آہنگ فعال ادارہ بنانے کے حوالے سے تفصیلی بریفننگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قومی غذائی ضروریات پوری کرنے اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے پی اے آر سی کو ایک فعال ادارہ بنانے کیلئے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات ، بہترین تحقیقی عملے کی خدمات، بین الاقوامی شراکت داری، صوبائی حکومتوں کے ساتھ بہتر روابط، اور کارکردگی کے واضح اہداف اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
پی اے آر سی کے تحت کام کرنے والے تمام تحقیقی مراکز کو یکجا کرکے پانچ سنٹر آف ایکسیلنس بنائے جائنگے۔ یہ سنٹرز زیادہ پیداوار والے بیج، اعلی نسل کے مویشی، پریسیشن ایگریکلچر، فارم میکانائزشن اور اس میں اے آئی کا استعمال، اور زرعی شعبے کی برآمدات بڑھانے کے لیے فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں تحقیق کا کام کرینگے۔ زرعی تحقیق کو انڈسٹری کے ساتھ جوڑا جائیگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ زرعی تحقیق کا ملک کے زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے کی فروغ میں کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پی اے آر سی کو چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز کے طرز پر زرعی تحقیق کے حوالے سے اعلی تحقیقاتی ادارہ بنایا جائے۔
وزیراعظم نے پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دے دی
34





