رحیم یار خان: انکم سپورٹ پروگرام کی رقم نکلوانے کیلئے آئی ہوئی خواتین پر چھت گر گئی‘ 8 خواتین جان بحق‘ 50 سے زائد شدید زخمی

32

رحیم یار خان: چک 123 پی میں انکم سپورٹ پروگرام کی رقم نکلوانے کیلئے آئی ہوئی خواتین پر چھت گر گئی‘ 8 خواتین جان بحق‘ 50 سے زائد شدید زخمی‘ پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر ملبے تلے سے نعشیں اور زخمیوں کو نکال کر ہسپتال منتقل کردیا‘ وزیر اعلیٰ کا نوٹس۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ روز چک 123 پی ٹبہ کے علاقہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں انکم سپورٹ پروگرام کی امدادی رقم نکلوانے کیلئے 4 دوکانوں پر مشتمل کھلی چھت پر بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہیں تھیں چھت پر زائد وزن ہونے کے باعث اچانک چھت زمین بوس ہوگئی جس کے نتیجے میں ملبے تلے دب کر 8 خواتین 50 سالہ شہناز بی بی زوجہ منور نواز‘ 35 سالہ بختاور بی بی زوجہ فضل دین‘ 40 سالہ مریم بی بی زوجہ یار محمد‘ 50 سالہ انور مائی زوجہ در محمد‘ 45 سالہ چرخی مائی زوجہ گوگی‘ پروین اختر زوجہ بشیر احمد اور 49 سالہ زلیخاں بی بی زوجہ عبد الرشید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر دم توڑ گئیں جبکہ 50 سے زائد خواتین اور مرد شدید زخمی ہوگئے۔ اطلاع پاکر مقامی پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو 1122 اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر ملبے تلے سے نعشیں اور زخمیوں کو نکال کر شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے اور نعشوں کو ضروری کارروائی کے بعد تدفین کیلئے ورثاءکے حوالے کردیں۔
افسوسناک حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے نوٹس لیتے ہوئے کمشنر اور آر پی او بہاولپور سے رپورٹ طلب کرلی۔ ڈپٹی کمشنر ظہیر انور جپہ اور ڈی پی او عرفان علی سموں موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی۔دوسری جانب اہل علاقہ کے مطابق 10 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ رحیم یار خان میں پیش آنیوالے افسوسناک واقعے پر دلی دکھ اور افسوس ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے لیے میں رحیم یار خان کا دورہ کررہی ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے اور دکھ کی اس گھڑی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑا ہے۔بی آئی ایس پی انتظامیہ کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ ہیڈکوارٹرز سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی فوری طور پر رحیم یار خان جائے‘ ذمہ داران کا تعین کرے اور واقعے کی 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں