25 سال بعد بسنت کا آغاز، ہر طرف بھنگڑے، بوکاٹا کی صدائیں

38

لاہور: لاہوریوں نے جمعہ کی رات جیسے ہی گھڑی نے بارہ بجائے پتنگیں اڑانا شروع کر دیں اور پابندی کے 25 سال بعد شبِ بسنت منائی، ہر طرف منچلے بھنگڑے ڈالتے رہے اور بوکاٹا کی صدائیں بلند کرتے رہے۔جمعہ کی رات سے اتوار کی رات تک، پورے تین دن پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت پر عائد پابندی ختم کرنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لاہوریوں کی خواہشات کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے کاروبار اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔دیگر افراد کے مطابق یہ فیصلہ ا±ن خاندانوں کے زخم تازہ کرے گا جنہوں نے آوارہ ڈور کے باعث اپنے پیارے کھوئے اور مزید قیمتی جانوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔بسنت ایک موسمی تہوار ہے جو سردیوں کو الوداع کہنے کے لیے منایا جاتا ہے، یہ فروری میں آتا ہے، جب موسم نہ زیادہ سرد ہوتا ہے نہ گرم بلکہ خوشگوار ہوتا ہے، پنجاب میں بسنت کی تقریبات 25 سال بعد بحال کی گئی ہیں، جو 6 فروری 2026 سے شروع ہو کر 8 فروری تک جاری رہیں گی۔
عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا، ہر عمر کے افراد تہوار کے رنگ میں رنگے نظر آئے، ہر چھت روشن تھی، موسیقی اور گیتوں کی گونج سنائی دیتی رہی، خوشی میں ڈوبے ہجوم نے شور مچایا، بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ اور آتش بازی بھی کی گئی۔لوگوں نے رات گئے مزے مزے کے کھانوں کا اہتمام کیا، جن میں خاص طور پر باربی کیو اور سرد موسم کے لیے سبز چائے شامل تھی، لباس اتنے نفیس تھے جیسے عید ہو، گلے ملنا، ”بو کاٹا“ کے نعرے، رقص، ڈھول، ہارن، ترمپٹ، پتنگیں اور ڈور کی پ±نیاں، سب شبِ بسنت کا لازمی حصہ تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں