وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری

2

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس حکام کسی بھی وقت، بغیر پیشگی نوٹس یا کسی بھی جگہ چھاپہ مار سکتے ہیں۔جسٹس عامر فاروق کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہنا تھا کہ چھاپہ مارنے کیلئے ٹیکس دہندہ کیخلاف پہلے سے کوئی کیس چلنا ضروری نہیں، وفاقی آئینی عدالت نے بغیر کیس کے چھاپہ غیر قانونی ہونے کی دلیل مسترد کردی۔فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون کے نفاذ کیلئے وسیع اختیارات دیے ہیں اور عدالت قانون میں اپنی طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں لگا سکتی جو پارلیمنٹ نے نہیں لکھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ جہاں مقننہ کی زبان صریح اور غیر مبہم ہو، وہاں عدالتیں اس میں تخصیص، تخفیف یا تضاد پیدا کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔عدالت نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کمشنر کو تحریری طور پر بتانا ہوگا کہ کس قانون کی خلاف ورزی پر چھاپہ مارا جا رہا ہے جبکہ ٹیکس حکام کمپیوٹر، دستاویزات اور اکاو¿نٹس قبضے میں لینے کے مکمل مجاز ہیں۔بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں