لاہور}وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ ایک سال پہلے یہاں خالی زمین تھی آج اللہ کے فضل و کرم سے پہلا آٹزم سکول بنا دیکھ کر دل خوشی سرشار ہوگیا،عالمی معیار کے مطابق آٹزم سینٹر میں ایک ہی چھت تلے آٹسٹک بچوں کے علاج کی تمام سہولتیں موجود ہیں، پاکستان ہی نہیں آٹسٹک بچوں کیلئے دنیا بھر میں شاید ایک ہی چھت تلے ایسی سہولتیں میسر نہیں ہوں گی۔مریم نواز سکول اینڈ ریسورس سینٹر فار آٹزم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلا سرکاری آٹزم سینٹرقائم ہونے پر آٹسٹک بچوں اوران کے والدین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔صوبائی معاون خصوصی ثانیہ عاشق نے آٹسٹک سکول پراجیکٹ کو اس طرح لیڈ کیا اوردلچسپی لی قابل تحسین ہے۔ثانیہ عاشق کو دیکھ کر آٹسٹک بچوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں،انہوں نے بچوں کو اپنا سمجھ کر اپنایا۔پنجاب بھر میں 20ہزار سے زائد سپیشل بچوں کا علاج اورسرجری کرکے نارمل زندگی بحال کی گئی۔اللہ تعالی نے ثانیہ عاشق کو خاص خدمت کیلئے چن لیا۔آٹزم سینٹر میں دستیاب سہولتیں کسی معجزے سے کم نہیں۔آٹسٹک سکول کے قیام کیلئے جن جن نے محنت کی اورکارخیر میں حصہ لیا اللہ اجر دے گا۔ سینئر منسٹر مریم اورنگزیب،صوبائی وزیر صہیب بھرت،سیکرٹری سہیل اشرف،ثمن،رضا جعفر،فہدنویداوردیگر کو مبارکباداورشاباش دیتی ہوں۔انہوں نے کہاکہ انسانیت پر اعتماد بحال کرنے میں معاونت پر سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔سپیشل بچے بہت خاص ہیں،آٹسٹک بچے،ان کے گھر والے ا وران کے والدین بھی میرے لئے خاص ہیں۔سپیشل بچوں کے ماں باپ روزانہ جس طرح ان کے مسائل سے نمٹتے ہیں،قابل تحسین ہے۔میری چھوٹی بہن اسماءکا سب سے بڑا بیٹا ابراہیم آٹسٹک ہے۔
ڈھائی سالہ ابراہیم کو چیک اپ کیلئے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اچانک پتہ چلا کہ اسے آٹزم ہے۔ابراہیم اوراس کے والدین کو بہت قریب سے دیکھا۔میری بہن اسماءاپنے دونوں نارمل بچوں کو آٹسٹک ابراہیم کا خاص خیال رکھنے کی ٹریننگ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹسٹک بچوں کے والدین کو روزمرہ زندگی میں نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بہت سے آٹسٹک بچے مائلڈ سے ہائپر ہوتے ہیں،غصہ ان کی طبیعت کا حصہ بن جاتا ہے۔میری بہن کو وسائل ہونے کے باوجود ڈھائی سال تک ابراہیم کے آٹسٹک ہونے کا علم نہ ہوسکا۔بہت زیادہ محنت اورٹریننگ کے بعد ابراہیم اب اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگاہے۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے آٹسٹک بچوں کو چار پائی سے باندھنے اورچاردیواری میں بند رکھنے کی روایت بھی موجود ہے۔
غریب والدین کے آٹسٹک بچے گلی محلے میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔آٹسٹک بچوں کے والدین کا حوصلہ اورصبر چٹان کی طرح بلنداورمضبوط ہوتا ہے۔آج ریاست آٹسٹک بچوں کے والدین کا کچھ بوجھ بانٹ رہی ہے تو مجھ سے زیادہ کون خوش ہوگا۔ میرا کام سڑکیں،ہسپتال اورسکول بنانا ہی نہیں لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی ہے۔محروم افراد سے بے خبر ریاست سے زیادہ نااہل کون ہوسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آٹزم سکول میں ایک ہی چھت تلے تمام سہولتیں میسر ہیں۔90فیصد نادار طبقے کے لوگ آٹسٹک بچے کا علاج خود نہیں کراسکتے۔ریاست کی نظر میں امیر اورغریب کے حقوق برابر ہیں۔آٹسٹک بچوں کے مسائل کا ہمیں ادراک نہیں کیونکہ وہ نہ بول سکتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔بعض آٹسٹک بچے شور اورلائٹ سے گھبرا کر فراسٹیشن میں خود کونقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔آٹزم سینٹر میں آٹسٹک بچوں کو اعتماد سے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا سکھائیں گے۔بعض آٹسٹک بچے شور نہیں سن سکتے ان کو آہستہ آہستہ شور سے مانوس کرائیں گے۔آٹسٹک بچوں کو مختلف تھراپی سے حالات کامقابلہ کرنا سکھائیں گے۔آٹسٹک بچوں کیلئے جتنی آسانیاں ممکن ہوں گی پیدا کریں گے۔
آٹسٹک بچوں کے علاج کی سہولت کو ضلع کی سطح تک لے جائیں گے‘مریم نواز شریف
15





