ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی اور جماعت اسلامی میں سخت مقابلہ

19

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں عام انتخابات کا میلہ سج گیا، بی این پی جیتے گی یا جماعت اسلامی کا اتحاد؟ پولنگ کا آغاز ہو گیا، 12 کروڑ 76 لاکھ سے زائد ووٹرز ملک کو نئی قیادت دیں گے، حالیہ قانون سازی پر بھی رائے دیں گے۔سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کے امیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار ہیں۔300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہو رہا ہے، حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔
عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنیوالے جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے جبکہ پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لےرہے۔انتخابات میں 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد ارکان سمیت 1981 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ حفاظتی انتظامات کے لیے فوج بھی تعینات ہے، ملک بھر میں کل 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی فرائض انجام دے رہے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، شہری ا?ئیں اور اپنی مرضی سے ووٹ ڈالیں۔پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئی، پاکستانی وقت کے مطابق پولنگ ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، پارلیمنٹ میں 50نشستیں خواتین کیلئے مخصوص ہیں۔واضح رہے کہ پولنگ کے دوران عوام سے حالیہ قانون سازی کی حمایت یا مخالفت پر رائے کیلئے ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں