اسلام آباد:وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری شعبہ صحت کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان کے لیے ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ پاکستان کی آبادی میں ہر سال 60 لاکھ سے زائد اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ویکسین کی تیاری میں خود کفیل ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے 2030 تک ویکسین کی درآمد اور بیرونِ ملک انحصار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم اس کے لئے 2030 کا انتظار کرنے کی بجائے فوری طور پر استعداد اور ویکسین تیاری کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔مصطفی کمال نے کہا کہ ملک میں انفراسٹرکچر کی کمی نہیں، قومی ادارہ صحت جیسے مضبوط ادارے موجود ہیں، تاہم ویکسین کی تیاری یا خرید و فروخت کوئی منافع بخش کاروبار نہیں ہے اس مقصد کے لیے پاکستان کو اچھے اور قابلِ اعتماد شراکت داروں کی ضرورت ہے، جس کے تحت چین، سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب گزشتہ 10 سال سے ویکسین کی تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان نے اپنی پہلی ویکسین پالیسی تیار کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمپنی صرف ایک ویکسین تیار کر سکتی ہے جبکہ پاکستان کو مجموعی طور پر 13 ویکسین درکار ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے او آئی سی ویکسین الائنس قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان ویکسین کے مشترکہ اتحاد کی اشد ضرورت ہے جس پر تمام رکن ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔انہوں نے اعلان کیا کہ او آئی سی ویکسین الائنس کے لئے شارٹ ٹرم، میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر آج سے کام کا آغاز کیا جائے گا تاکہ اسلامی ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکیں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جنگ کے دوران ویکسین کی قلت کے مسئلے پر یہ بات سامنے آئی کہ عالمی ادارہ گاوی بھارت سے ویکسین خرید کر پاکستان کو فراہم کر رہا تھا۔ وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ویکسین کی قلت کے تجربے کے بعد حکومت نے مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی وزیرِ صحت نے اس بات پر زور دیا کہ صحت مند ماحول، صحت مند قوم اور معاشی استحکام کا براہِ راست تعلق قومی سلامتی سے ہے۔
ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے، وفاقی وزیرِ صحت
19





