اسلام آباد:وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ انڈس اے آئی ویک سے جامعات، اسٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیوں میں تعاون ممکن ہو گا، ڈیجیٹل سکلز پروگرام سے عوام کو بنیادی اے آئی مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں، ٹیکس نظام میں اے آئی ٹریک اینڈ ٹریس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان جدت، علم اور ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔ وہ انڈس اے آئی ویک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال و دیگر کے علاوہ بین الاقوامی مہمان بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک 2026 کا باقاعدہ طور پر آغاز کر دیا گیا ہے، وزیراعظم کی قیادت میں قومی ڈیجیٹائزیشن اور اے آئی پالیسی پر عمل جاری ہے، پاکستان ڈیجیٹل انقلاب کی طرف عزم کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کے تحت قومی ڈیجیٹل روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، نیشنل ڈیجیٹل کمیشن وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ملک گیر ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کر رہی ہے، ڈیٹا، سائبر سکیورٹی اور اے آئی کےلئے واضح گورننس فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی قومی اے آئی پالیسی ستمبر 2025 میں متعارف کرائی گئی جبکہ 2026 میں اے آئی پالیسی پر عملدرآمد کا آغاز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک سے جامعات، اسٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیوں میں تعاون ممکن ہو گا، ڈیجیٹل سکلز پروگرام سے عوام کو بنیادی اے آئی مہارتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوامی خدمات کے شعبوں کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، ٹیکس نظام میں اے آئی ٹریک اینڈ ٹریس سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ڈیجیٹل تبدیلی کی قیادت کرے، پاکستان جدت، علم اور ترقی کا سفر جاری رکھے گا۔
انڈس اے آئی ویک سے جامعات، اسٹارٹ اپس اور عالمی کمپنیوں میں تعاون ممکن ہو گا، شزا فاطمہ خواجہ
16





