پاکستان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم

20

اسلام آباد :وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 2030ءتک مصنوعی ذہانت(اے آئی) کے شعبے میں ایک ارب ڈالر خرچ کرنے، اے آئی کا نصاب تیار کرنے، اے آئی میں پی ایچ ڈی کیلئے ایک ہزار وظائف دینے، آئی ٹی اور اے آئی کے حوالے سے استعداد میں اضافے کیلئے قومی سطح پر پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی بڑی آبادی کو اے آئی کی تربیت دے کر زراعت ، صنعت ، تجارت سمیت ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اور پاکستان اقوام علم میں نمایاں مقام پیدا کرسکتا ہے،انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجیکل منظر نامے کو بدل دے گا،ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا، پاکستان مشترکہ راہ پر عزم اور جوش کے ساتھ قدم بڑھا رہا ہے،لاہور میں پہلا سیف سٹی منصوبہ اور پہلی آئی ٹی یونیورسٹی بھی قائم کی گئی ہے، لینڈ ریکارڈ میں اصلاحات سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہو گا۔وہ پیر کو یہاں انڈس اے آئی ویک 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر گورنر سندھ کے علاوہ احسن اقبال ، شزا فاطمہ خواجہ ، عطاءاللہ تارڑ سمیت وفاقی وزرائ، دوست ممالک کے سفارتی و اعلیٰ سرکاری حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدل دے گا، یہ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی قیادت میں اور ان کے وڑن کے تحت انہوں نے تعلیم، صحت، محصولات اور نوجوانوں کی ترقی کے لئے کئی اہم منصوبے شروع کئے، بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں آئی ٹی کے شعبے پر خصوصی توجہ دی اورپانچ لاکھ ہونہار طلبہ کو لیپ ٹاپس دیئے، اس وقت پنجاب میں ای لائبریریز کا آغاز کیا جب کسی نے اس کا سوچا تک نہ تھا، لاہور میں پہلا سیف سٹی منصوبہ اور ملک کی پہلی آئی ٹی یونیورسٹی بھی اسی دور میں قائم کی گئی، پنجاب لینڈ ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے ذریعے اراضی کے ریکارڈ کی شفافیت کو یقینی بنایا گیا، لینڈ ریکارڈ میں اصلاحات سے کرپشن کا خاتمہ ممکن ہوا اور ریونیو افسران کی بدعنوانی کو ختم کیا گیا، ای اشٹام پیپرز کا اجراءکرکے آمدن میں اضافہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مکمل ڈیجیٹائزیشن سے محصولات کی وصولی میں شفافیت ممکن ہوئی، سمگلنگ کی روم تھام کےلئے جدید سکینرز اور آلات پورٹس پر نصب کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں 60 فیصد نوجوان ہیں، انہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اب مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کےلئے تیار ہے، دیہی علاقوں تک پہنچے اور نوجوانوں کو جدید علم اور تکنیکی مہارتیں فراہم کیں۔وزیر اعظم نے ایک ملین غیر آئی ٹی پروفیشنلرز کو اے آئی میں تربیت فراہم کرنے، 1000 مکمل فنڈ شدہ پی ایچ ڈی سکالرشپس اے آئی کے شعبے میں دینے اور وفاق کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان و بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں بھی اے آئی کی تعلیم و نصاب متعارف کرانے اور 2030ءتک اے آئی کے شعبے میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو زراعت، تجارت اور دیگر اقتصادی شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات اپنانے کے لئے پرعزم ہے، پاکستان ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور عالمی برادری میں اپنی جگہ بنائےگا، معیشت، صنعت، تجارت اور خواتین کے حقوق میں اے آئی کے ذریعے انقلاب متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت ، زراعت، تجارت سمیت اے آئی کے ذریعے ترقی کا انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے، ہم نے بہت سے اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ، پاکستان اقوام عالم میں اپنا نام پیدا کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں