پاکستان، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ،وزیراعظم

19

اسلام آباد:وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ پاکستان، کشمیری عوام کی آزادی کی جدوجہد میں اپنی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور ان کی انتظامی کمیٹیوں کی مسلسل نگرانی، مذہبی آزادی کے حق کی سنگین خلاف ورزی ہے،وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر کے عوام بھارتی قبضے کی زنجیروں کو توڑ کر خوف سے آزاد مستقبل میں اپنی زندگیاں بسر کریں گے، 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ،سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی صریحاً نفی کرتے ہیں۔یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری 2026 پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہاکہ ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، یہ دن اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ پاکستان کے عوام اور حکومت، اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے حق خودارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی اصولی اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈہ پر موجود دیرینہ حل طلب تنازعات میں سے ایک ہے،ان برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں نے بلا شبہ اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، ایک آزاد اور غیر جانبدار رائے شماری کے ذریعے کیا جانا ہے تاہم تقریبا آٹھ دہائیوں سے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث کشمیری عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
انہوںنے کہاکہ دہائیوں کی خونریزی، ظلم و ستم اور بربریت کے باوجود، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) آج بھی بھاری فوجی موجودگی، مکمل جبر اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے، من مانی سیاسی نظربندیاں، حقیقی سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھونٹنا، اور ذرائع ابلاغ پر سخت پابندیاں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے بھارت کے معمول کے ہتھکنڈے بن چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ 5 اگست 2019 کو بھارت نے غیر قانونی اور یکطرفہ انتظامی و قانونی اقدامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے جبری تسلط کو مضبوط بنانا تھا،یہ اقدامات نہ صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں بلکہ متعلقہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی صریحا نفی کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں