کراچی: شہرِ قائد میں گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر 33 گھنٹوں بعد قابو پا لیا گیا، ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے، تہہ خانے تک رسائی ہو گئی، ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے، 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 65 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق گل پلازہ سے 15 لاشیں مل چکی ہیں، 22 افراد معمولی زخمی ہوئے تھے، گھروں کو چلے گئے جبکہ 65 افراد اب تک لاپتہ ہیں، جاں بحق افراد کے ورثاء کو ایک ایک کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے۔
گل پلازہ کی عمارت سے آوازیں آنے لگی ہیں، ریسکیو اہلکاروں نے شہریوں کو ہٹانے کے لیے اعلانات شروع کر دیے، پولیس طلب کر لی گئی، عمارت گرنے کا خدشہ شدید ہو گیا۔
گل پلازہ سے ملبے کو ہٹاکرسرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، گل پلازہ سانحہ میں تاحال 73لوگ لاپتہ ہیں، شہریوں نے اپنے پیاروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع انتظامیہ کو دی ہے۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ گل پلازہ میں لگی آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے، کولنگ کا عمل جاری ہے، تہہ خانے تک رسائی ہو گئی ہے، ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔
کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کہا ہے کہ افسوسناک واقعہ ہے، اب تک 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، 18 افراد زخمی ہوئے، ہسپتال میں اب کوئی زخمی زیر علاج نہیں جبکہ 59 سے 60 افراد مسنگ ہیں۔
پولیس چیف نے واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، انتظامیہ نے ہمیں رپورٹ دی اوراس میں کسی کی غفلت پائی گئی تو مقدمے کا اندراج بھی ہوگا، ریسکیو آپریشن احتیاط کے ساتھ کیا جارہا ہے،اختتام کا ٹائم فریم نہیں دیاجاسکتا۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے، محدود پیمانے پر سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے، ہفتے کی رات کو لگنے والی آگ 33 گھنٹے بھڑکتی رہی۔





